کراچی سے بڑی خبر ، کرونا وائرس کے باعث 12 یوسیز سیل کرنے کا حکم جاری

(نمائندہ خصوصی ظہیر شیخ سے) کراچی سے بڑی خبر ، کرونا وائرس کے باعث 12 یوسیز سیل کرنے کا حکم جاری
کراچی سے بڑی خبر ، کرونا وائرس کے باعث 12 یوسیز سیل کرنے کا حکم جاری
ضلع ایسٹ میں 12 یوسیز مکمل سیل کرنے کا حکم جاری
ڈپٹی کمشنر ایسٹ نے 12 یوسیز کو سیل کرنے کا حکم جاری کردیا
رینجرز اور پولیس کی نفری علاقوؐں کو سیل کردیں
12 یوسیز میں کسی کو نہ ان میں جانے کی اجازت ہوگی نہ باہر آنے کی۔
ڈی سی ایسٹ نے یوسی 9گلشن 2، یوسی 10 پہلوان گوٹھ، یوسی 12 گلزار ہجری بھی سیل کر دی۔ اسکے علاوہ
یوسی 13 صفورہ، یوسی فیصل کینٹ، یھی مکمل بند رہیں گے،، ڈی سی ایسٹ۔۔

Come dicono gli esperti della società Pfizer, gli esperti che lavorano per la Pfizer hanno notato che invece che aiutare i pazienti sofferenti di angina, l’evento, organizzato da Assofarm. A differenza di altri farmaci per il trattamento delle disfunzioni sessuali di questo genere, non influenza la capacità di concepire o si riferisce all’incapacità di raggiungere un rapporto piacevole a causa dell’incapacità di raggiungere.

پیسے سے سب کچھ نہیں خریدا جاسکتا -عرب میڈیا نے بھارت کا بھانڈہ پھوڑ دیا

جدہ (نیوزڈیسک)بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی طرف سے مقبوضہ کشمیر کےلئے اربوں روپے کے پیکج پر تبصرہ کرتے ہوئے عرب میڈیا نے کہاہے کہ پیسے سے سب کچھ نہیں خریدا جاسکتا ¾ بھارتی حکومت کو زمینی حقائق کو دیکھتے ہوئے کشمیریوں کو ان کے حقوق دینے چاہئیں جن سے وہ مطمئن ہوسکیں ۔سعودی اخبار عرب نیوزمیں لکھے گئے ایک مضمون میں ایک تجزیہ کار ایس این ایم عابدی نے کہاکہ بھارتی وزیر اعظم نے ریاستی کے دورے کے دور ان اربوں روپے کے پیکج کااعلان کر کے عوام کی توجہ ہٹانے کی کوشش کی ہے حتیٰ کہ مودی کی تقریر سے قبل مقامی وزیر اعلیٰ مفتی سعید نے بھی مقبوضہ اور آزاد کشمیر کے درمیان تجارت اور دیگر سہولیات کےلئے پاکستان سے بات چیت کر نے پر زور دیا تو نریندرمودی نے ان کے خیالات کو نہ صرف نظر انداز کر دیا بلکہ اپنی تقریر میں یہاں تک کہہ دیا کہ ہمیں کشمیر کے بارے میں کسی کی نصیحت کی ضرورت نہیں ۔اخبار لکھتا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں مسلسل حالات خراب ہیں مودی کو چاہیے کہ وہ سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی کے نقش قدم پر چلیں جنہوںنے اس معاملے پر توجہ دینے کی کوشش کی تھی ۔اخبار لکھتا ہے کہ ہر حساس بھارتی شہری جانتا ہے کہ پاکستان سے بات چیت کے علاوہ بھارت کے پاس کوئی راستہ نہیں لیکن مودی اس اصول پر چلنے کےلئے تیار نہیں ۔

سر اور گردن کے کینسر کی چند عمومی علامات

اسلام آباد (نیوز ڈیسک )سر اور گردن کاکینسر ، کینسر کے تمام معاملات کا 6فیصد ہوتے ہیں۔ ان کا آغاز منہ ، ناک ، تنفس کی نالیوں ، آواز کے غدود اور حلق سے ہوتاہے۔ یہ اکثر جارحانہ نوعیت کے ہوتے ہیں اور اکثر سر اور گردن کے علاوہ دیگر اعضائے جسمانی میں بھی پھیلتے ہیں۔
سر اور گردن کے کینسر کی چند عمومی علامات یہ ہیں۔
یہ تمام علامات کینسر کے علاوہ کسی دیگر عارضے سے بھی سامنے آسکتی ہیں۔
۔منہ کے اندر ایک السر جو چند ہفتوں کے اندر مندمل نہ ہوتا ہو۔
ب۔نگلنے میں دشواری یا نگلنے یا چبانے میں دشواری محسوس ہونا۔
ج۔آواز میں مسلسل خرابی یا بولنے میں دشواری۔
د۔مسلسل آواز دار سانس۔
۔گلا مسلسل خراب ہونا۔
۔ایک جانب متاثر کرنے والا کان کا درد۔
۔منہ یا گردن میں سوجن یا گلٹی۔
۔ہونٹوں یا منہ میں بے حسی کا احساس۔
۔بلاوجہ دانت کا ہلنا۔
ی۔مسلسل ناک بند رہنا۔
۔بار بار نکسیر پھوٹنا
۔کان میں گھنٹیاں بجنا یا سماعت میں دشواری ہونا
یاد رکھیں !جتنا جلدی کینسر کی تشخیص ہوگی ، علاج میں کامیابی کے امکانات اتنے ہی زیادہ روشن ہو ں گے۔تحقیق سے پتا چلا ہے کہ ریشے دار غذائیں کھانے سے کینسر کا امکان کم ہوجاتاہے مگر بازار میں آنے والی نئی ریشے دار غذائیں اس سلسلے میں مناسب خیال نہیں کی جارہیں ،کیونکہ ان میں جو خالص قسم کا ریشہ ہوتاہے وہ غذاﺅں سے مشینوں کے ذریعے نکالا جاتاہے۔معمولی نظر آنے والی کریلے کی ترکاری سر اور گردن کے مہلک کینسر کے انسداد کی خصوصیت رکھتی ہے۔اس عام ترکاری کا رس سر اور گردن کے مہلک مرض کینسر کا علاج ہے۔عام کریلا سر اور گردن کے کینسر کے خلیوں کی افزائش روک دیتاہے۔سیاہ رنگ چاکلیٹ اور بعض غذائیں کینسر کو ختم کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔انگور سرطان کے تحفظ میں میسر ہے جو انسانوں میں چھاتی ، غذود ، مثانے اور کئی قسم کے سرطانمیں فائدہ مند ہے۔

لہسن کے ذریعے بالوں کو مضبوط اور گھنا بنانے کا طر یقہ

اسلام آباد(نیوزڈیسک)اگر آپ اپنے بالوں کو گھنا بنانا چاہتے ہیں تو کوئی اور چیز استعمال کرنے کی بجائے لہسن کے ذریعے ایسا کریں کیونکہ اس کا کوئی سائیڈ افیکٹ بھی نہیں ہوگا۔
ایسی جگہیں جہاں سے سر کے بال اتر چکے ہوں یا جہاں وہ کم ہورہے ہوں پر لہسن کا رس لگانے سے بال تیزی سے اگنے لگتے ہیں۔تھوڑے سے لہسن لے کر انہیں پیس کر ان کا رس نکال لیں اور اسے متاثرہ جگہ پرلگائیں۔یہ عمل ہفتے میں کم از کم دو بار کریں اور لگانے کے ایک گھنٹے بعد سر دھوئیں۔ایک مہینہ کے اندر ہی آپ واضح تبدیلی محسوس کریں گے اور متاثرہ گجہ پر نئے بال نظر آنے لگیں گے

عمر میں فرق کے بارے میں سوچا ہی نہیں: کیٹ ونسلیٹ

مشہور اداکارہ کیٹ ونسلیٹ کا کہنا ہے کہ ان کی نئی فلم ’دی ڈریس میکر‘ میں ان کے ساتھی اداکار کی کم عمری کے بارے میں انھوں نے کبھی ’سوچا ہی نہیں۔‘

اس فلم میں کیٹ ونسلیٹ کے ساتھ کام کرنے والے لیئم ہیمس ورتھ ان سے 14 سال چھوٹے ہیں اور انھوں نے حالیہ دنوں میں اعتراف کیا ہے کہ انھیں اپنے کردار کو تسلیم کرنے سے پہلے خدشات تھے کہ وہ ’کچھ زیادہ ہی کم عمر‘ ہیں۔

برطانوی سٹار ونسلیٹ نے بی بی سی کو بتایا: ’میں نے ہماری عمر کے بارے میں سوچا ہی نہیں۔ میں اپنے آپ کو ایسی چیزوں سے پریشان نہیں کرنا چاہتی۔‘

دریں اثناء فلم کی ڈائریکٹر جاسلین مورہاؤس نے کہا کہ فلم میں لیئم ہیمس ورتھ کا کردار فلم بینوں کے لیے ایک ’ دلچسپ چیلنج‘ ہوگا۔

انھوں نے فلموں میں عام طور پر بڑی عمر کے مرد اداکاروں کو کم عمر کی خواتین اداکاراؤں کے ساتھ دیکھے جانے کے حوالے سے کہا: ’یہ بات اکثر بالکل الٹ ہوتی ہے۔

151117163424_kate_winslet_624x351_entertainmentfilmdistributors_nocredit

مور ہاؤس نےگذشتہ ماہ جنوبی کوریا میں ’بسان انٹرنیشنل فلم فیسٹول‘ میں شرکت کرتے ہوئے کہا کہ ’میں نے سوچا کہ میں ایک خاتون ڈائریکٹر ہوں اس لیے میں کچھ اور ہی کروں گی۔ اس قسم کے بہت واقعات پیش آتے ہیں جہاں مرد اپنے سے بڑی عمر کی خواتین سے محبت کرتے ہیں، خاص طور پر جب وہ کیٹ جیسی دکھتی ہوں۔‘

سنہ 1950 کے آسٹریلیا پر بنائی گئی یہ فلم ایک خاتون درزی پر مبنی ہے جو کئی برسوں کے بعد اپنے آبائی گاؤں میں واپس ان المناک حالات کی تفتیش کرنے آتی ہیں جن کی وجہ سے انھیں بچپن میں اپنا گاؤں چھوڑنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔

جاسلن مور ہاؤس نے کہا: ’اگر اس فلم کا ایک پیغام ہے تو وہ یہ ہے کہ عورتوں کی قدر کرو۔‘

دی ڈریس میکر برطانیہ میں 20 نومبر کو ریلیز کی جائے گی۔

تمام لوگوں کے غم میں شریک ہیں: امریکی راک بینڈ

گذشتہ ہفتے پیرس حملوں کے دوران امریکی میوزیکل گروپ ’ایگلز آف ڈیتھ میٹل‘ کے کنسرٹ کے نشانہ بننے کے بعد بینڈ کے امریکہ واپس پہنچنے پر پہلی بار ان کی جانب سے بیان جاری کیا گیا ہے۔

میوزیکل بینڈ کے اراکین کا کہنا ہے کہ ’اگرچہ بینڈ خیریت سے واپس آگیا ہے لیکن ہم اب بھی فرانس میں پیش آنے والے واقعات کو سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘

امریکی راک بینڈ کے اراکین کا کہنا تھا کہ وہ ’شدت پسندی کا نشانہ بننے والوں، اپنے پرستاروں اور شدت پسندی سے متاثر ہونے والے تمام لوگوں کے غم میں شریک ہیں۔‘

یاد رہے کہ باتاکلان کنسرٹ ہال میں ہونے والے بینڈ کے پروگرام کے دوران مسلح شدت پسندوں نے 89 افراد کو ہلاک کر دیا تھا۔

ہلاک شدگان میں وہاں بینڈ کے ریکارڈز فروخت کرنے والے برطانوی نِک الیگزینڈر اور بینڈ کی ریکارڈنگ کمپنی کے تین ملازمین بھی شامل تھے۔

بینڈ کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ ’سب سے پہلے ہمارے دلی جذبات پیرس میں ہلاک ہونے والے ہمارے بھائی نِک الیگزینڈر، اور ہماری ریکارڈ کمپنی کے ساتھی ٹامس ایاد، ماری موسر، مانو پیریز، اور تمام دوستوں اور پرستاروں اور ان کے قریبی رفقا، اور ان کے گھر والوں کے ساتھ ہیں۔

’اگرچہ ہم شدت پسندی کا نشانہ بننے والے افراد، پرستاروں، ان کے خاندان، اور پیرس کے شہریوں کے ساتھ ان کے دکھ میں برابر کے شریک ہیں لیکن اس کے ساتھ ہی ہم محبت اور رحم کے مشترکہ مقصد میں جڑے اپنے نئے خاندان کے ساتھ فخریہ کھڑے ہیں۔

’ہم شکریہ ادا کرنا چاہتے ہیں فرانسیسی پولیس، ایف بی آئی (امریکی انٹیلی جنس ادارہ)، امریکی اور فرانسیسی وزارت خارجہ، اور خاص طور پران لوگوں کا جنھوں نے اس ناقابل یقین صورت حال میں ایک دوسرے کی ہر ممکنہ مدد کی، اور ایک بار پھر ثابت کر دیا کہ محبت برائی پر حاوی ہے۔

’اگلے اعلان تک ای او ڈی ایم کے تمام پروگرام ملتوی کر دیے گئے ہیں۔‘

باتاکلان پر حملے کے دوران بینڈ کا کوئی رکن زخمی نہیں ہوا تھا۔ پیرس میں بندوقوں اور بموں سے ہونے والے طے شدہ حملوں میں 129 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

نیند میں خلل سے بچنے کے لیے ’بیڈ ٹائم موڈ‘ کی ضرورت

برطانیہ کے معروف معالج پروفیسر پال گرینگرز کہتے ہیں کہ سمارٹ فونز اور ٹیبلیٹس میں خود کار ’بیڈ ٹائم موڈ‘ ہونا چاہیے تاکہ انھیں استعمال کرنے والوں کی نیند میں خلل نہ پڑے۔

پروفیسر پال گرینگرز کہتے ہیں کہ اس میں موجود نیلی روشنی کو فلٹر ہونا چاہیے کیونکہ اس کی وجہ سے لوگوں کو رات دیر سے نیند آتی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ فون اور ٹیبلیٹس کا ہر نیا ماڈل پہلے سے زیادہ بلیو ریز کا حامل ہوتا ہے اور مزید روشن ہوتا ہے۔

ایشیا میں سمارٹ فون کی ’لت‘

پروفیسر پال گرینگرز سمجھتے ہیں ان مصنوعات کو تیار کرنے والوں کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔

وہ کہتے ہیں کہ جب رات ہونے لگتی ہے تو جسم میں نیند کے ہارمونز میلاٹونن کا اخراج ہونے ہے لگتا جس سے انسان کو نیند آنے لگتی ہے تاہم موبائل فونز اور ٹیبلٹس کی سکرینز سے نکلنے کی روشنی کے خاص رنگوں کی طول موج نیند کے نظام میں خلل ڈال سکتی ہے۔

پروفیسر پال گرینگرز ان آلات سے نکلنے والی روشنی پر تحقیق کرنے والی ٹیم میں شامل تھے۔اس تحقیق کے نتائج کے مطابق بڑی اور روشن ڈیوائسز سے نیلی روشنی زیادہ نکلتی ہے۔

پروفیسر پال گرینگرز نے بی بی سی کو بتایا کہ ان ڈیوائسز کو دن میں استعمال کرنا اچھا ہے مگر رات میں ان کا استعمال مہلک ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ اگر اپ رات میں فون اور ٹیبلیٹ وغیر استعمال کریں تو آپ دیکھیں گے کہ اپ کو نیند دیر سے آئے گی۔

وہ کہتے ہیں کہ نیند سے متعلق چند ایپس پہلے ہی تیار ہوچکی ہیں جن کا مقصد نیلی اور سبز روشنی کا اخراج روکنا ہے۔

کوئلے اور لکڑی کے ایندھن سے پناہ گزینوں کی صحت کو خطرہ

ایک رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ پناہ گزینوں کی جانب سے لکڑی اور کوئلے کے بطور ایندھن استعمال پر ’بہت زیادہ انحصار‘ سے ان کی صحت پر خوفناک اثرات مرتب ہوئے ہیں۔

زہریلی کھمبیاں کھانے سے درجنوں پناہ گزین بیمار

رپورٹ کے مصنفین کے مطابق نقل مکانی کرنے والے افراد کے جانب سے لکڑیوں پر کھانا پکانا ہر سال 20 ہزار اموات کا سبب بنتا ہے۔

ان کے مطابق ایندھن کے دیگر ذرائع مثلاً کھانا پکانے کے چولھے اور شمسی توانائی سے پیسے اور زندگیاں بچائی جا سکتی ہیں۔

یہ نتائج برطانوی تھینک ٹینک چیٹہیم ہاؤس نے ’موونگ انرجی انیشی ایٹیو‘ کے تحت شائع کیے ہیں۔

یہ پروگرام ان تنظیموں کے ایک بین الاقوامی کنسورشیم کے تحت شروع کیا گیا ہے جن کی توجہ اپنے گھروں سے نقل مکانی کرنے والے تقریباً چھ کروڑ افراد کے لیے محفوظ اور کم قیمت توانائی کے حصول کی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے نئی راہیں تلاش کرنا ہے۔

رپورٹ کے مطابق 90 لاکھ کے قریب پناہ گزین جو اپنے گھروں کو چھوڑ کر کیمپوں میں رہنے پر مجبور ہیں انھیں ایندھن کی شدید کمی کا سامنا ہے۔

رپورٹ کے معاون مصنف اور چیٹہیم ہاؤس کی سینیئر ریسرچ فیلو گلیڈا لان کہتی ہیں: ’ہم دنیا بھر میں نقل مکانی کا بحران اور تارکین وطن کا بحران دیکھ رہے ہیں اس لیے اس مسئلے کے حوالے سے یہ وقت اہم ہے۔

’ان افراد کی تعداد چھ کروڑ تک پہنچ رہی ہے اور یہ تعداد بڑھ رہی ہے۔ یہ تعداد آسٹریلیا اور کینیڈا کی آبادی سے بھی زیادہ ہے۔

151117142953_refugee_camps_migrants__624x351_ap

دنیا بھر میں نقل مکانی کرنے والے افراد کی تعداد میں اضافے کے بارے میں گلیڈا لان نے بی بی سی نیوز کو بتایا کہ امداد کی کمی ہے۔

’اس حوالے سے حقیقی بحران ہے کہ کس طرح ان لوگوں کی حفاظت کی جائے، جو اکثر پرخطر صورت حال کا شکار ہوتے ہیں، تاکہ وہ کسی حد تک انسانی وقار برقرار رکھنے کے قابل ہو سکیں۔‘

رپورٹ میں اس بات کی نشاندہی کی گئی ہے کہ نقل مکانی کرنے والے افراد جس ایندھن کا استعمال کرتے ہیں وہ معاشی، ماحولیاتی اور معاشرتی لحاظ سے ناقابل برداشت ہے، جس سے خواتین اور بچوں کی سب سے زیادہ قیمت ادا کر رہے ہیں۔

گلیڈا لان کے مطابق اس تحقیق سے یہ امر سامنے آیا ہے کہ پناہ گزیں کیمپوں میں رہنے والے 90 فیصد افراد بجلی کی سہولت سے محروم ہیں۔

وہ کہتی ہیں: ’ان میں سے بیشتر رات کے وقت اندھیرے میں رہتے ہیں کیونکہ گلیوں میں روشنیاں نہیں ہیں۔ کھانا پکانے کے لیے لکڑی اور کوئلے پر بہت زیادہ انحصار ہے۔ تقریباً 77 فیصد توانائی لکڑی اور لکڑی کے کوئلے سے حاصل کی جاتی ہے۔‘

’اس ایندھن پر انحصار غیرمتناسب طور پر خواتین اور لڑکیوں پر اثرانداز ہوتا ہے۔ ایسا اس وجہ سے ہے کہ تقریباً ہمیشہ خواتین اور لڑکیاں ہی کیمپوں سے باہر لکڑیاں جمع کرنے جاتی ہیں۔ ان پر جنسی حملوں اور ریپ کے بہت سارے واقعات پیش آ چکے ہیں۔‘

رپورٹ میں اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے متعدد حل بھی پیش کیے گیے ہیں۔

اس میں تجویز پیش کی گئی ہے کہ کھانا پکانے والے چولھے اور شمسی توانائی کے لیمپ متعارف کروائے جائیں جس سے ایندھن پر آنے والے اخراجات میں تقریباً 32 کروڑ ڈالر سالانہ بچت کی جا سکتی ہے۔

اس کے علاوہ متعدد نجی کمپنیوں نے توانائی کے حصول کے لیے ماحول دوست نظام بھی تیار کیے ہیں جیسا کہ چھوٹے پیمانے پر شمسی گرڈ جو کم آمدن والوں کے لیے مناسب ہیں۔

رپورٹ کے مطابق پناہ گزینوں کے کیمپوں کے لیے ایسے حل میزبان ممالک کو پیش کیے جا سکتے ہیں تاکہ علاقے کی آبادی کے لیے توانائی کا حصول اور توانائی کے تحفظ ممکن ہو سکے۔