نیب آرڈیننس نیازی گٹھ جوڑ کے لیے این آر او ہے ۔وفاقی وزیر اطلاعات سعید غنی کی پریس کانفرنس

کراچی (ظہیر شیخ سے) وزیر اطلاعات و محنت سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ نیب آرڈننس دراصل این آر او نہیں سپر این آر او ان لوگوں کے لئے ہے، جو نیازی نیب گٹھ جوڑ کا حصہ ہیں اور عمران نیازی کے اے ٹی ایم ہیں۔ چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال نے  نیب میں رہ کر بدنامی ہی کمائی ہے اس لئے بہتر یہی ہے کہ وہ خود مستعفیٰ ہوجائیں۔ نیب آرڈننس صرف چیئرمین نیب کو توسیع دینے کے لئے نہیں بلکہ اس میں تمام باتیں غیر آئینی ہیں۔ کلفٹن کنٹونمنٹ بورڈ کے آزاد امیدوار نے کامیابی کے بعد پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار کی ہے، جس کے بعد اب وہاں کے 10 میں سے 5 وارڈ کے کامیاب امیدوار کا تعلق پیپلز پارٹی سے اور انشاء اللہ کراچی کے 6 میں سے 3 کنٹونمنٹ بورڈز کے وائس چیئرمین اس بار پیپلز پارٹی کے ہوں گے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کے روز اپنے کیمپ آفس میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر وزیر اعلیٰ سندھ کے معاون خصوصی و پیپلز پارٹی سندھ کے جنرل سیکرٹری وقار مہدی، کراچی ڈویژن کے جنرل سیکرٹری جاوید ناگوری،کرم اللہ وقاصی، پیپلز پارٹی میں شامل ہونے والے کلفٹن کنٹونمنٹ بورڈ وارڈ 3 کے آزاد امیدوار محمد جمیل، ان کے ہمراہ آئے اسی وارڈز کے معززین شکیل امین، شعیب، اعجاز، تنویر، محمد علی، ارشد، محمد حفیظ سمیت درجنوں افراد بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔ سعید غنی نے کہا کہ محمد جمیل جنہوں نے 2015 میں پی ٹی آئی کی ٹکٹ پر اسی وارڈ سے کامیابی حاصل کی تھی اس بار انہوں نے آزاد امیدوار کے طور پر 13 دیگر امیدواروں کا مقابلہ کیا اور کامیاب ہوئے ہیں اور ہمیں خوشی ہے کہ وہ آج پیپلز پارٹی میں شامل ہورہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کلفٹن کنٹونمنٹ میں 10 میں سے پہلے ہی 4 وارڈز پر پیپلز پارٹی کامیاب ہوئی ہے اور آج محمد جمیل کی شمولیت کے بعد اب ہمارے تعداد 5 ہوگئی ہے اور انشاء اللہ ہم وہاں اپنا وائس چیئرمین لانے میں کامیاب ہوں گے۔ اس موقع پر وقار مہدی نے شمولیت اختیار کرنے والے محمد جمیل اور ان کے ساتھیوں کی پیپلز پارٹی میں شمولیت پر انہیں مبارکباد پیش کرتے ہوئے انہیں یقین دلایا کہ پیپلز پارٹی ان کے ساتھ ہر وقت موجود رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ کنٹونمنٹ کے انتخابات میں پیپلز پارٹی اس شہر میں سب سے زیادہ ووٹ حاصل کرنے والی جماعت بن کر سامنے آئی ہے اور انشاء اللہ کلفٹن کنٹونمنٹ کے ساتھ ساتھ ہم کورنگی اور منوڑہ کنٹونمنٹ میں بھی اپنا ہی وائس چیئرمین لائے گی۔ صحافیوں کے سوالات کے جواب میں وزیر اطلاعات و محنت سندھ سعید غنی نے کہا کہ ہم پہلے ہی کہہ چکیں ہیں کہ یہ نیب دراصل نیب نیازی گٹھ جوڑ ہے اور یہ صرف اپوزیشن کے ان ہی رہنماؤں کے خلاف کام کررہا ہے جو موجودہ نالائق، نااہل اور سلیکٹیڈ حکومت اور ان کے وزراء کی کریشن کو بے نقاب کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جسٹس (ر) جاوید اقبال میں ایسی کیا خوبی ہے جو اس ملک کے 22 کروڑ عوام میں سے کسی ایک کی بھی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ کوئی آرڈننس کسی ایک شخص کو دیکھ کر بنائے جانے سے ثابت ہوجاتا ہے کہ وہ کیا ہے۔ سعید غنی نے کہا کہ میں جسٹس (ر) جاوید اقبال کو مشورہ دوں گا کہ انہوں نے نیب کے سربراہ رہ کر صرف بدنامی ہی کمائی ہے اس لئے وہ خود ہی اس عہدے سے مستعفیٰ ہوجائیں۔ ایک سوال کے جواب میں سعید غنی نے کہا کہ اس آرڈننس کا اصل مقصد عمران نیازی کا اپنے ان اے ٹی ایم کو شیلٹر دینا ہے، جو چینی، گندم، پیٹرول، ایل جی پی، ادویات سمیت دیگر کی قیمتوں کو بڑھانے کا سبب بنے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ جس طرح گذشتہ 3 سال عمران خان نے اپنے اے ٹی ایم کو سایہ فراہم کیا ہے ان پنڈورا پیپرز کے بعد دوبارہ اس میں ملوث اپنے کابینہ کے ارکان اور پارلیمنٹرین کو سایہ فراہم کرنے کے لئے آرڈیننس کا سہارا لے رہے ہیں۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ عمران خان کا پہلے جو موقف آف شور کمپنی کا تھا وہی موقف ان کو رکھنا ہوگا اور ان کے تمام وزراء اور جن جن کے نام اس پنڈورا پیپرز میں آئے ہیں ان سے استعفیٰ کے کر تحقیقات کرنا چاہیے لیکن وہ ان اے ٹی ایم کو تحفظ فراہم کرنے کے لئے خود تحقیقات کرنے کا کہہ رہے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ لیڈر آف اپوزیشن سے مشاورت آئین اور قانون میں ہے اس میں کسی کی مرضی نہیں چل سکتی۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ موجودہ نالائق، نااہل اور سلیکٹیڈ وزیر اعظم اور اس حکومت کا مقصد حیات یہ ہے کہ جاوید اقبال تاحیات چیئرمین بن جائیں اور اس کے لئے حکومت گند کررہی ہے۔شرجیل میمن کے استعفیٰ کے سوال پر انہوں نے کہا کہ وہ اس وقت وزیر نہیں ہیں اور خود انہوں نے اس احتساب کے لئے اپنے آپ کو پیش کرنے کا کہہ دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ شرجیل میمن اور شوکت ترین میں فرق ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی جب 2008 میں برسر اقتدار اقتدار آئی اس وقت ڈیڑھ ارب کی غذائی اجناس امپورٹ کی جاتی تھی۔ پیپلز پارٹی جب تک حکومت میں رہی یہ مکمل تبدیل ہوئی اور ہم نے غذائی اجناس کی نہ صرف ڈیڑھ ارب کی امپورٹ ختم کی بلکہ ہم نے 50 کروڑ روپے کی ایکسپورٹ کرکے 2 ارب بچائے۔ انہوں نے کہا کہ جب سے موجودہ حکومت 3 سال کے دوران موجودہ حکومت نے 4 ارب روپے کی غذائی اجناس کی امپورٹ کرکے اپنی نالائقی اور نااہلی کو ثابت کردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں آٹے کی قلت کا ذمہ دار سندھ کو ٹھہرانے والے نالائق وزراء بتائیں کہ پنجاب جو ملک کی 70 فیصد گندم پیدا کرنے والا صوبہ ہے وہاں آج آٹے کی قلت کیوں ہے جبکہ سندھ تو صرف 12 لاکھ ملین ٹن ہی گندم پیدا کرتا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتیں اور بالخصوص پیپلز پارٹی عوامی اشیوز پر آواز اٹھا رہی ہیں۔

وزیر اطلاعات و محنت سندھ سعید غنی پریس کانفرنس کررہے ہیں۔ اس موقع پر وقار مہدی، جاوید ناگوری، کرم اللہ وقاصی، پیپلز پارٹی میں شامل ہونے والے محمد جمیل اور دیگر بھی ان کے ہمراہ موجود ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں